Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتیلی ماں کے والد سے نکاح کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2584-Web
- Issued
- 15 جمادی الاولی 1447ھ / 07 نومبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم سوتیلی ماں کے والد سے نکاح کا حکم سوتیلی ماں کے باپ سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوتیلی ماں کے باپ سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، جبکہ حرمت کا کوئی اور سبب مثلاً رضاعت و غیرہ نہ پایا جائے ، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصریحات کے مطابق سوتیلی ماں کا باپ اپنا، نانا نہیں ہے، لہذا اس سے عورت کا نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : سوتیلی ماں کا باپ نہ اپنا، نانا، نہ سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ ، سوتیلی ماں کی حقیقی ماں یا بہن یا بیٹی سب سے نکاح جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.