Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر میں دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول جانا
- Answered by
- مولاناسید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2416-Web
- Issued
- 12 صفر المظفر 1447 - 071 اگست 2025 دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول گئے تو کیا کریں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) دعائے قنوت آدھی پڑھنے کے بعد بھول گئے ، تو کیا رکوع کر سکتے ہیں یا کوئی اور دعا پڑھ لیں ؟ جواب اگر دعائے قنوت کا کچھ حصہ پڑھ کر بھول گئے اور آگے یاد نہیں آرہی، تو ایسی صورت میں رکوع کر لینے کی صورت میں دعائے قنوت کا واجب ادا ہو جائے گا، نماز بھی ہو جائے گی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا ۔ مشہور دعائے قنوت میں سے کچھ دعا بھی پڑھ لی، تو واجب ساقط ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.