Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلی کا تھوک پاک ہے یا ناپاک؟
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2456-Web
- Issued
- 18 ربیع الاول 1447ھ /12 ستمبر 2025ء
Question
کیا بلی کا تھوک پاک ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا بلی کا تھوک پاک ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم کیا بلی کا تھوک پاک ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہر جاندار کے لعاب کا وہی حکم ہے جو اس کے جوٹھے کا حکم ہے ۔ اصح قول کے مطابق بلی کا جوٹھا پاک اور مکروہ تنزیہی ہے لہذا اس کے لعاب کا بھی یہی حکم ہے ۔ بلی کے جوٹھے کے متعلق تنویر الابصار مع الدر المختار وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ” (وسواكن بيوت) طاهر للضرورة (مكروه) تنزیها فی الأصح “ یعنی گھر میں رہنے والے جانوروں کا جوٹھا ضرور تا پاک ہے ، اور اصح قول کے مطابق کراہت تنزیہی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.