Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چلتے پھرتے آیتِ کریمہ پڑھنے کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2262-Web
Issued
24 شوال المکرم 1446ھ / 23 اپریل 2025ء

Question

چلتے پھرتے آیت کریمہ پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا بے وضو چلتے پھرتے زبانی آیت کریمہ پڑھ سکتے ہیں ؟ اس کے علاوہ قرآن پاک کی کوئی بھی سورت یا آیت زبانی بے وضو چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

بہتر یہ ہے کہ با وضو قرآن پاک کی تلاوت کی جائے ۔ البتہ بے وضو شخص کے لیے قرآن پاک چھوئے بغیر ، صرف زبانی یا دیکھ کر ، کسی آیت یا سورت کو پڑھنا بھی جائز ہے، اسی طرح چلتے ہوئے تلاوت کرنے میں بھی حرج نہیں جبکہ دل تلاوت کے علاوہ کسی اور طرف مشغول نہ ہوتا ہو، اگر چلنے کی وجہ سے توجہ بنتی ہو یا دل تلاوت کے علاوہ کسی اور طرف مشغول ہو رہا ہو، تو اس صورت میں چلتے ہوئے تلاوت کرنا مکروہ و نا پسندیدہ عمل ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : " بے وضو کو قرآن مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے ۔ بے چھوٹے زبانی یا دیکھ کر پڑھے تو کوئی حرج نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.