Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قبر کو پکا کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
اوپر سے قبر کی کرنا، جائز ہے، لیکن نہ کرنا بہتر ہے ، ہاں اندر سے قبر یکی کرنا ممنوع ہے۔ تنویر الابصار اور شرح در مختار میں ہے: (يسوى اللبن عليه و القصب لا الآجر ) المطبوخ و الخشب لو حوله اما فوقه فلا یکرہ “ اس پر کچی اینٹیں اور بانس لگا دے ، میت کے گرد پکی اینٹیں اور لکڑی نہ لگائے، البتہ اوپر ہو ، تو مکروہ نہیں۔ (التنوير والدر مع رد المحتار، جلد 3، صفحه 167،مطبوعہ کوئٹہ) سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں: ” قبر پختہ نہ کرنا، بہتر ہے اور کریں، تو اندر سے کڑا کچار ہے ، اوپر سے پختہ کر سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.