Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلاق کی مختلف صورتیں اور ضروری احکام
Answer (beginning)
شرعی طور پر جب تین طلاقیں ہو جائیں اگر چہ یہ طلاقیں لڑائی کے سبب ہوں یا بلا وجہ یا فون پر دی جائیں یا زبانی یا تحریری، بہر صورت عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے اور بغیر حلالہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ﴾ ترجمہ کنز الایمان : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.