Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امتحان میں نقل کرنا کیسا ؟
Answer (beginning)
امتحان میں نقل کرنا نا جائز و حرام ہے۔ اولا اس لیے کہ نقل کرنے میں نگرانی کرنے والوں ، پیپر چیک کرنے والوں اور اس ڈگری کے ذریعے نوکری دینے والوں کے ساتھ دھوکا ہے، حالانکہ احادیث کریمہ میں دھوکا دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ثانیا اس لیے کہ نقل کرنے میں بغیر نقل پیپر دینے والے طلبہ کی حق تلفی ہے اور یہ بھی نا جائز ہے۔ دھوکا دینے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” من غشنا فلیس منا“ ترجمہ : جو ہمیں دھوکا (الصحیح لمسلم، کتاب الایمان، صفحه 57، مطبوعہ بیروت) بخاری شریف کی حدیث ہے: " عن ابن عمر رضی الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الغادر يرفع له لواء دے، وہ ہم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.