Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

معاشرے میں پائی جانے والی سودی قرض کی ایک صورت کا حکم؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ خالص سود ہے ، لہذا آپ یہ طریقہ نہیں اپنا سکتے ، کیونکہ آپ جو ر قم اُس شخص کو دیں گے ، اس کی شرعی حیثیت قرض والی ہے ، یعنی آپ اُس شخص کو قرض کے طور پر رقم دیں گے اور قرض کا اصول یہ ہوتا ہے کہ جتنی رقم قرض دی ہو، اتنی ہی واپس لی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ لینا طے کیا جائے ، تو یہ سود ہوتا ہے ، جس کا لینا دینا نا جائز و حرام ہے۔ اللہ عزوجل قرآنِ مجید میں سود کی حرمت سے متعلق ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وَأَحَلَ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبوا ترجمہ کنز الایمان : ” اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود کو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.