Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ارحم نام رکھنا کیسا اور ارحم کا معنی؟
Answer (beginning)
شرعی طور پر ” ارحم “ نام رکھنا جائز ہے کہ ممنوع ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ نہ یہ ان اسماء میں سے ہے جو اللہ تعالی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ خاص ہوں ، نہ یہ بے معنی ہے ، نہ اس کے معنی برے و مذموم ہیں ، نہ فخر مشتمل ہے ، نہ اس میں ممنوعہ تزکیہ اور خود ستائی ہے ، نہ شریعت مطہرہ میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ تمبرة ارحم کا اطلاق غیر خدا پر بھی جائز ہے ، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ”ما رأيت أحدا كان أرحم بالعيال من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ ترجمہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی ایک کو بھی عیال پر رحم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.