Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
علمِ غیب بتا دینے سے وہ غیب نہیں رہتا؟ اعتراض کا جواب
Answer (beginning)
مذکورہ اعتراض در حقیقت ” غیب کی تعریف کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اگر غیب کے مفہوم کو اس کی صحیح حدود و قیود کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس طرح کے تمام شکوک و شبہات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تو آئیے ہم پہلے غیب کی تعریف کو سمجھتے ہیں۔ ” غیب دراصل مخلوق سے پوشیدہ اس چیز کا نام ہے، جسے نہ حواس خمسہ عادیہ (یعنی انسان کو دی جانے والی دیکھنے ، سننے ، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کی عمومی (قوت کے ذریعے جانا جا سکے اور نہ ہی بلا دلیل، محض بداہت عقل (یعنی نظر و فکر کے بغیر عقل ) سے اس کا ادراک کیا جا سکے ، اب ذرا اس تعریف پر غور کیجئے ! کیا اس میں کہیں یہ شرط مذکور ہے کہ غیب کا معلوم نہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.