Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سودی انویسٹمنٹ اور پارٹنرشپ کا شرعی حکم
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کا انویسٹمنٹ لینے اور اس پر منافع دینے کا طریقہ شراکت داری (partnership) نہیں بلکہ خالص سودی طریقے پر مشتمل ہے لہذا ان شرائط کے ساتھ مذکورہ کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنا اور اس سے پرافٹ حاصل کرنا، ناجائز و حرام ہے۔ فریقین پر لازم ہے کہ فورا اس سودی معاہدے (Interest Based Contract) کو ختم کریں اور اللہ پاک کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں اور اب تک نفع کی مد میں جو رقم حاصل کی ہے، انویسٹر پر لازم ہے کہ وہ رقم بلانیت ثواب کسی شرعی فقیر کو صدقہ کر دے بلکہ بہتر ہے کہ فریق اول کو واپس کر دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.