Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بائنری ٹریڈنگ کا شرعی کا حکم

Answer (beginning)

سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق بائنری ٹریڈنگ جوئے اور باطل یعنی ناحق طریقے سے مال لینے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں بیع (خرید و فروخت) مبادلة المال بالمال (یعنی مال کے ساتھ مال کے تبادلے ) کا نام ہے، جبکہ سوال میں مذکور طریقہ کار میں کسی چیز کی بیع (خرید و فروخت) نہیں ہو رہی ( یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک طرف سے کوئی چیز دی جاری ہو اور اس کے بدلے میں رقم کی جارہی ہو )، بلکہ یہاں رقم جمع کرواکر قسمت آزمائی جاری ہے کہ جو اس نے قیمت بڑھنے یا کم ہونے کا اندازہ لگایا ہے، اگر وہ درست ہو گیا، تو جتنی رقم جمع کروائی ہے، اس سے زائد ر قم مل جائے گی اور اگر اس کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.