Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوہ آگے شادی کر لے تو پہلے شوہر کی وراثت سے اس کا حصہ ختم ہوجاتاہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مرحوم کی بیوہ اگر چہ آگے شادی کرلے ، مرحوم شوہر کی وراثت سے پھر بھی اس کو حصہ ملے گا، آگے شادی کرنے کی وجہ سے اس کو ملنے والا حصہ ختم نہیں ہو گا۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کسی وارث کو وراثت نہ دینے کے چار اسباب ہیں، ان میں سے کوئی ایک سبب پایا جائے تو وراثت سے حصہ نہیں ملتا اور بیوہ کا آگے شادی کر لینا ان اسباب میں سے نہیں ہے ، یہاں تک کہ بیوہ یاکسی بھی شخص کا اگر ایک دفعہ وراثت میں حصہ ثابت ہو جائے، تو پھر اگر چہ وہ شخص فوت بھی ہو جائے ، اس کا جو حصہ ثابت ہوا تھا ، وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وراثت کے اصولوں کے مطابق اس کے ورثاء میں ہی تقسیم ہوتا ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.