Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جانوروں میں مضاربت کا طریقہ؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ طریقہ (جس میں ایک شخص جانور دے گا اور دوسرا ان کو پالے گا اور بقر عید پہ ان کو فروخت کر کے حاصل ہونے والا منافع آپس میں برابر ، برابر تقسیم کر لیا جائے گا) کے مطابق عقد کر ناشر عاً درست نہیں ہے ، بلکہ یہ اجارہ فاسدہ ہے، کیونکہ اس میں اجرت مجہول ہے کہ معلوم نہیں بقر عید تک یہ جانور زندہ بھی رہیں گے یا نہیں اور جب بکیں گے تو کتنی قیمت لگے گی؟ جبکہ اجارے میں اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے ، ورنہ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے،اس کا ایک درست طریقہ یہ ہے کہ زید اور اسامہ آپس میں مضاربت کر لیں یعنی زید اسامہ کو رقم دے دے تاکہ وہ اس رقم سے جانور خریدے اور ان کے چارے وغیرہ کے اخراجات بھی اسی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.