Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض دے کر مشروط نفع لینے کا حکم ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ خالص سود ہے کہ قرض دے کر نفع لینا ہے اور اسی کو سود کہتے ہیں، اس کا لینا دینا نا جائز و حرام ہے۔ اللہ عز وجل قرآنِ مجید میں سود کی حرمت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الربوا ترجمہ کنز الایمان: "اور اللہ نے حلال کیا بیچ کو اور حرام کیا سود کو ۔ “ (پارہ 3، سورة البقرة، آیت 275) نفع کے ساتھ مشروط قرض کے متعلق سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا: ”کل قرض جر منفعة فهو ربا“ ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.