Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں ایک رکن کی مقدار تاخیر کا مطلب

Answer (beginning)

بنیادی طور پر شرعی مسئلہ یہ ہے کہ نماز کے فرائض و واجبات کو ان کے محل (جگہ) میں ادا کرنا واجب ہے، کسی بھی فرض یا واجب میں اتنی تاخیر کرنا کہ جس میں ایک رکن ادا کر لیا جائے ، ترک واجب ہے، خواہ وہ تاخیر خاموش ہو کر سوچ و بچار کے سبب ہو یا کسی اجنبی فاصل کے سبب، بہر صورت بھول کر ایسا کرنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور جان بوجھ کر ایسا کرنے کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ اور نماز دوبارہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.