Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شادی شدہ بیٹے یا بیٹی کو وراثت سے حصہ کم ملے گا؟

Fatwa no.
2743-Aqs

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنے بچوں میں سے کچھ کی شادی اپنی زندگی میں کر دے اور کچھ کی ابھی اس نے شادی نہ کی ہو کہ اس کا انتقال ہو جائے ، تو جن بچوں کی باپ نے شادی نہیں کی تھی، وراثت تقسیم کرتے وقت وہ اپنے شادی شدہ بھائی، بالخصوص شادی شدہ بہن کو یہ کہتے ہیں کہ تم لوگوں کی شادی میں والد صاحب نے بہت خرچہ کر دیا تھا، تمہیں جہیز دے دیا تھا، وہی تمہارا حصہ تھا، لہذا اب وراثت میں تمہارا حصہ نہیں ہے، یا پہلے وہ خرچہ مائنس کر کے ہمیں دیا جائے، پھر وراثت تقسیم کی جائے۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ ایسی صورت میں باپ نے اپنی زندگی میں جن بچوں کی شادی کی تھی، ان کو حصہ ملے گا؟ اگر ملے گا تو پورا حصہ ملے گا یا شادی کا خرچہ مائنس کر کے باقی ملے گا؟

Answer (beginning)

زمانہ جاہلیت میں لوگ یتیم بچوں، عورتوں یا جو مجبور ہوتے تھے ، ان کی وراثت ظلماً اور مختلف طرح کے حیلے بہانوں سے کھا جایا کرتے تھے، جس کی مذمت قرآن و حدیث میں بہت واضح طور پر بیان ہوئی ہے ، یہی ناسور ہمارے معاشرے کے بعض افراد میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ مختلف حیلے بہانوں سے جن پر زور چلتا ہے ، ان کا مال وراثت سے حصہ کھا جاتے ہیں، حالا نکہ نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے اور نہ ہی اسلام کی تعلیمات ، بلکہ اسلام نے جن لوگوں کو وراثت سے جتنا جتنا حصہ دیا ہے، ان کو ان کا پورا حصہ دینا لازم ہے ، ورنہ یہ ناحق کھانے والے اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھریں گے اور سخت عذاب کے حق دار ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.