Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وراثت میں رضاعی ماں کا حصہ بنتا ہے؟

Fatwa no.
007-MUI

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا دودھ کے رشتے کی ماں کو بھی وراثت میں حصہ دینا ہو گا؟ جبکہ اصل ماں باپ موجود نہیں ہیں۔ اگر میت نے اس کے لئے وصیت کی ہوئی ہے کہ ان کو میری ماں کے برابر ہی حصہ دینا ہے تو کیا کیا جائے ؟

Answer (beginning)

وراثت میں نسبی رشتے داروں کا حق ہوتا ہے رضاعت سے حق وراثت ثابت نہیں ہو تا؛ لہذا پو چھ گئی صورت میں اگر چہ میت کے اصل ماں باپ موجود نہیں ہیں پھر بھی رضاعی ماں کو وارث ہونے کی وجہ سے وراثت میں حصہ نہیں دیا جا سکتا، البتہ چونکہ میت نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کی رضاعی ماں کو حقیقی ماں (اگر ہوتی تو اس کا جتناحصہ ہوتا ہے، اس) کے برابر حصہ دیا جائے، اس لیے اس کی رضاعی ماں کو قوانین وصیت کے مطابق ترکہ میں سے حصہ ملے گا جس کی دو صورتیں بنتی ہیں۔ (۱): اگر میت کا بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، یا دو بھائی یا بہن ہوں تو اس کی رضاعی ماں کو (چھٹا حصہ ) ملے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.