Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عورت پر ساس سسر کی خدمت واجب ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
1181-FAM
Issued
11 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 29 اپریل 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم صورت پر ساس اور سسر کی خدمت لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بیوی پر اپنے ساس اور سسر کی خدمت کرنا واجب ہے اور اس پر اس حوالے سے زبر دستی کی جا سکتی ہے ؟ جواب عورت کے لیے اپنے ساس سسر کی جائز خدمت کرنا، مثلا کھانا بنا دینا، کپڑے تیار کر دینا وغیرہ، حسن معاشرت کا حصہ اور سعادت مندی کی بات ہے، نیز یہ شوہر کے ساتھ بھلائی اور وفا شعاری کی علامت ہے ، خصوصا جبکہ ساس سر عمر رسیدہ ہوں اور انہیں خدمت کی حاجت ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.