Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مردہ جانور کی کھال استعمال کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مردہ جانور کی کھال بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حلال یا حرام جانور بغیر ذبح شرعی اپنی طبعی موت مرجائے تو ان کی کھال (چمڑا) اتار کر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جواب سائل : سعید عطاری(5-G، نیوکراچی) کوئی بھی جانور (خواہ وہ جانور حلال ہو یا حرام) اگر اپنی طبعی موت مر جائے یعنی اسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح نہیں کیا گیا ہو تو اس کی کھال (چمڑے) کو دباغت دئے بغیر بیچنا نا جائز و حرام ہے ، اگر بیچ دیا جائے تو یہ خرید وفروخت ناجائز و باطل ہوگی، کیونکہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.