Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کھانے میں پر ہیڈ سسٹم کا کیا حکم ہے؟

Question

ہوٹلوں میں رائج perheadsystem کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کئی ہوٹلوں میں "perheadsystem" رائج ہے ، اس سسٹم میں یہ ہوتا ہے کہ کھانے کے وزن، فی پلیٹ ، مقدار یا تعداد کی بجائے فی فرد (perperson) فکس رقم چارج کی جاتی ہے ، جیسے کئی ہوٹلوں میں روٹی یا نان کی آئٹم پر "perheadsystem" ہوتا ہے ، تو وہ کھا نا کھانے والوں سے روٹی یا نان کی تعداد کے مطابق پیسے نہیں لیتے، بلکہ کھانے والے جتنے افراد ہوتے ہیں، ہر فرد کے بدلے فکس رقم لیتے ہیں۔ ہمیں یہ رہنمائی چاہیے تھی کہ کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ نیز اس سٹم کے مطابق اس ہوٹل کا کھانا کھانا بھی درست ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

مختلف ہوٹلوں میں رائج "perheadsystem میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، نیز اس سٹم کے مطابق اس ہوٹل سے کھانا کھانا بھی درست ہے ۔ تفصیل یہ ہے کہ : ہوٹلنگ، بیج (خرید و فروخت) کی ہی ایک قسم ہے۔ شریعت مطہرہ نے خرید و فروخت کے متعلق واضح سنہری اصول بیان فرمائے ہیں کہ اس میں متعاقدین ( بیچنے اور خریدنے والے) میں سے کوئی بھی دوسرے کو دھوکہ نہ دے ، نیز جمیع (خریدی جانے والی چیز) اور ثمن (اس چیز کی قیمت) دونوں اس طرح متعین ہوں کہ ان میں جھگڑے کا پہلو نہ رہے ، ورنہ وہ خرید و فروخت درست نہیں ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.