Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کپڑے پر خون کے دھبے لگ جائیں تو کیا حکم ہے؟
Question
کپڑے پر خون کے دھبے لگ جائیں تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زخم سے دن میں کئی دفعہ خون نکل کر کپڑوں پر لگ جاتا ہے کبھی زیادہ ہو تا ہے کبھی کم ہوتا ہے لیکن اس سے کپڑوں پر دھبے لگ جاتے ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس خون کے نکلنے کی وجہ سے کیا مجھے وضو دوبارہ کرنا ہوگا اور جن کپڑوں پر وہ خون لگا ہو کیا اس میں نماز ہو جائے گی یا مجھے کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے ؟ جواب
Answer (beginning)
زخم سے جو خون نکل کر کپڑوں پر لگا اگر اس کے متعلق غالب گمان یہ ہے کہ اس میں بہنے کی صلاحیت تھی یعنی کپڑے پر نہ لگتا تو یہ خون زخم کے سر سے ابھر کر ڈھلک جاتا تو اس صورت میں وہ خون نجس ہے جس سے وضو ٹوٹ جائے گا کپڑے میں درہم سے زیادہ لگ جائے تو ان کپڑوں میں نماز نہ ہوگی، درہم کے برابر لگے مکروہ تحریمی ہوگی جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور درہم سے کم لگے تو خلاف سنت ہوگی دوبارہ پڑھنا بہتر ہے ۔ اور اگر خون کے متعلق مذکورہ گمان غالب نہ ہو تو وہ پاک ہے نہ اس سے وضو جائے گا نہ کپڑے ناپاک ہوں گے اور ان کپڑوں میں بلا کراہت نمازادا ہو جائے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.