Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹھ کر اذان دینا کیسا ؟

Question

بیٹھ کر اذان دینا کیسا ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے اوقات میں دی جانے والی اذان بیٹھ کر کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جو اذان بیٹھ کر دی جائے، کیا اسے دوبارہ کہا جائے گا یا نہیں ؟ اس کے متعلق رہنمائی فرما دیں ۔ سائل : عابد علی (فیصل آباد) جواب

Answer (beginning)

اذان دین اسلام کا عظیم شعار، نماز کے لیے بلانے کا سبب ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحا بہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانے سے اذان دینے کا ایک مخصوص طریقہ رائج ہے ، کھڑے ہو کر اذان دینا بھی اسی معہودو معمول طریقے کا ایک حصہ ہے ، لہذا بلا عذر بیٹھ کر اذان کہنا مکروہ اور سنت متوارثہ کی مخالفت ہے اور جو اذان بیٹھ کر دی جائے ، اُسے کھڑے ہو کر دوبارہ کہنا مستحب ہے، البتہ عذر کی وجہ سے بیٹھ کر اذان دینا بلا کراہت جائز، بلکہ صحابی رسول کے عمل سے ثابت ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.