Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گردن کے دو پٹھوں کا حکم

Question

گردن کے دو پٹھوں کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں : " حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں ۔ ۔ ۔ (9) گردن کے دو بیٹھے کہ شانوں تک کھینچے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ الخ (فتاوی رضوی ج ۲ ص ۲۴۰، ۲۳۱) یہ گردن کے دو سیچھے کیا مکروہ تحریمی ہیں یا تنزیہی ؟ جواب

Answer (beginning)

حلال مذبوح جانور کے گردن کے دو سٹھے جن کا ذکر سوال میں ہے یہ مکروہ تحریمی نہیں ہیں بلکہ یہ مکروہ تنزیہی ہیں ۔ لہذا انہیں کھانا گناہ نہیں لیکن کھانے سے بچنا چاہیے۔ تفصیل کچھ یوں ہے کہ گردن کے دو پٹھوں کی کراہت کا ذکر امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے اپنے دو فتاوی میں کیا ہے ۔ ان میں سے ایک مقام تو وہی ہے جس کی عبارت سوال میں مذکور ہے ۔ اور دوسرا امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے اپنے تفصیلی فتوے میں اس بات کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے ۔ چنانچہ سوال ہوا کہ بدن حیوان ماکول اللحم میں کیا کیا چیز میں مکروہ ہیں ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.