Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نخاع الصلب یعنی حرام مغز کا حکم اور تفصیل

Question

نخاع الصلب (حرام مغنا) کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ حرام مغز کھانے کا کیا حکم ہے ؟ اگر یہ مکروہ ہے تو کیا مکروہ تنزیہی ہے یا مکروہ تحریمی ؟ بہر دو صورت اس کے دلائل بیان فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

” نخاع الصلب " یعنی ریڑھ کی ہڈی میں موجود سفید ڈورے کی طرح کا گودا جسے اردو میں "حرام مغز “ کہتے ہیں ، اس کا کھانا مکروہ تنزیہی) نا پسندیدہ ہے ۔ لہذا گوشت پکاتے ہوئے نکالنا ممکن ہو تو پہلے ہی نکال دیا جائے ۔ اور اگر کھانے میں یہ پک گیا تو اس کی وجہ سے سالن میں کوئی کراہت نہیں آئے گی البتہ کھاتے وقت احتیاط کی جائے اور اسے کھایا نہ جائے ۔ وہ عبارات جن میں "نخاع الصلب کی مطلق کراہت مذکور ہے : تفصیل کچھ یوں ہے کہ کئی کتب فقہ میں نخاع الصلب (حرام مغز) کی کراہت مذکور ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.