Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ساس سسر کو زکوٰۃ دینا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 12382:Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اپنی ساس یا سسر کو زکاۃ دینے کا کیا حکم ہے جبکہ وہ مستحق زکاۃ بھی ہوں۔
Answer (beginning)
اپنے آباء واجداد ، اپنی اولاد اور اپنی بیوی یا شوہر کے علاوہ، ہر شرعی فقیر رشتہ دار کو زکاۃ دینا جائز ہے، بشر طیکہ وہ ہاشمی خاندان سے نہ ہو۔ پوچھی گئی صورت میں جبکہ ساس یاسر شرعی فقیر ہوں اور ہاشمی خاندان سے بھی نہ ہوں، تو ان کو اپنے مال کی زکاۃ دینا جائز ہے، کہ ساس یا سر نہ اپنے آباء واجداد میں سے ہیں اور نہ اولاد میں شامل ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اپنی بہو یا داماد کو زکاۃ دینا جائز قرار دیا ہے۔ جن کے مابین ولادت یا زوجیت کا رشتہ ہو ، وہ آپس میں زکاۃ نہیں دے سکتے۔ در مختار میں ہے: ”ولا الی من بينهما ولاد۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.