Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2025 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ جب کسی طالب علم کو بیرون ملک تعلیم کے سلسلے میں جانا ہو تا ہے تو بسا اوقات جس تعلیمی ادارے میں داخلہ مقصود ہوتا ہے ، اس ادارے کی جانب سے اسٹوڈنٹ یا اس کے سرپرست کا اکاؤنٹ ہیلینس اور اسٹیٹمنٹ سیکیورٹی کے طور پر چیک کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ ادارے کی فیس افورڈ کر سکتا ہے یا نہیں؟ اب ان میں بعض لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہ فیس تو افورڈ کر سکتے ہیں لیکن ان کے اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن اور بیلنس ادارے کے مطلوبہ لیول کے مطابق نہیں ہوتی ، ایسے لوگ ایڈمیشن کے لئے بینک سے جعلی اسٹیٹمنٹ بنواتے ہیں اور بینک کی مدد سے مطلوبہ رقم کچھ عرصے کے لئے اپنے اکاؤنٹ میں رکھواتے ہیں، یہ رقم انہیں بینک مہیا کرتا ہے ، لیکن یہ صرف اکاؤنٹ میں شو کرنے کی حد تک ہوتا ہے ، کلائنٹ اس رقم کو کسی طرح استعمال نہیں کر سکتا، حتی کہ اس کا اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ بھی بینک اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔ اس سروس پر کلائنٹ بینک کو کچھ فیصد رقم ادا کرتا ہے، پوچھنایہ تھا کہ اس طرح جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا اور اکاؤنٹ میں رقم شوکر وانا کیسا ہے؟ نیز مذکورہ فعل پر کلائنٹ کا بینک کو مخصوص رقم دینا جائز ہے ؟
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا اور اکاؤنٹ میں وہ رقم شوکر وانا جس کا اکاؤنٹ ہولڈر مالک نہیں، جھوٹ اور دھوکا دہی میں داخل ہے، جو نا جائز و حرام ہے، نیز بینک کا مذکورہ فعل پر اعانت کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، اور اس مذموم فعل پر کلائنٹ کا ایک مخصوص رقم دینا اور بینک کا اسے لینا بھی حرام ہے کیونکہ یہ کوئی قابل اجارہ کام نہیں، تو اس پر دی جانے والی رقم اپنا کام نکلوانے کے لئے دی جارہی ہے جو رشوت اور باطل اجرت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.