Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو افراد جماعت کیسے کروائیں ؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز کے لئے دو آدمی ہوں اور ان میں سے ایک مقندی بن جائے اور ایک امام تو اس صورت میں ان کی نماز، باجماعت ادا کر نا قرار پائے گی ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! اگر نماز کے لئے دو آدمی ہوں اور ان میں سے ایک مقتدی بن جائے تو اس صورت میں بھی ان کی نماز باجماعت قرار پائے گی اور اس صورت میں مقندی امام کی دائیں جانب کھڑا ہوگا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر نمازوں کی جماعت کے لئے امام کے ساتھ ایک مقتدی کا ہونا بھی کفایت کرتا ہے اگر چہ وہ ایک مقتدی سمجھ بوجھ رکھنے والا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم عاملات اهلسنت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.