Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنے کرایہ دار سے قرض لینے کی احتیاط اور طریقہ

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک دکان کرایہ پر دی ہوئی ہے تو کیا میں اس دکان دار سے ادھار لے سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

کرایہ دار سے ادھار لینا تو فی نفسہ جائز ہے البتہ یہ احتیاط ضروری ہے کہ ادھار لے کر اس ادھار کی وجہ سے دکان کا کرایہ مارکیٹ کے مقابلے میں کم کر دینا جائز نہیں۔ یہ نہ ہو کہ وہ کہے کہ میں ادھار تو دے دیتا ہوں لیکن اس کے بدلے میں کرایہ کم کرنا پڑے گا یہ جائز نہیں کیونکہ قرض پر نفع کو حدیث پاک میں سود قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث مبارک میں ہے: ” كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَرِبًا “ ترجمہ: قرض کے ذریعہ سے جو منفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔ (کنز العمال، جز 99/3،6،حدیث:15512) لہذا اس اُدھار کی وجہ سے اسے کوئی نفع نہیں دے سکتے ، بغیر کسی نفع کے اپنے کرایہ دار سے قرض لے سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.