Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کباڑ کا کاروبار کرنا جائز ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
8562-FSD
Issued
22 ربیع الاول 1445 / 09 اکتوبر 2023

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم کباڑ کے کاروبار کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کباڑ کا کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟ چونکہ یہ کام ایسا ہے کہ اس میں بعض اوقات چوری کی چیزیں بیچے جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، نیز کباڑیے کی کمائی کا کیا حکم ہے ؟ شرعی حکم بیان فرمائیں۔ جواب کباڑ کا کاروبار کہ جس میں ناکارہ ، خراب اور ردی مال کو خریدا اور بیچا جاتا ہے ، یہ بیچ یعنی خرید و فروخت کی ہی صورت ہے ، لہذا اگر خرید و فروخت کی تمام شرائط و از کان کا لحاظ رکھا جائے تو دیگر جائز کاروباری شکلوں کی طرح یہ بھی جائز ہے اور اس کاروبار سے حاصل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.