Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نابالغ پر سجدۂ تلاوت لازم ہوتا ہے؟

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینه اکتوبر 2025. دام الافيا الملت

Question

کیا نابالغ پر سجدہ تلاوت لازم ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نا بالغ بچہ اگر آیت سجدہ پڑھ یا سن لے ، تو کیا اس پر سجدہ تلاوت لازم ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کے مطابق آیت سجدہ پڑھنے یا سننے والا جب بطور ادا یا قھنا نماز کے لازم ہونے کا اہل ہو، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے اور اگر وہ نماز لازم ہونے کا اہل نہ ہو تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ اس کے مطابق چونکہ نابالغ بچہ نماز کے لازم ہونے کا اہل نہیں ہوتا، لہذا اگر یہ آیت سجدہ پڑھ یا سن لے تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا، البتہ نابالغ سے اگر کسی عاقل بالغ نماز کے اہل شخص نے آیت سجدہ سنی ، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہو گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.