Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
Fqa 14376 Biwi Ko Behan Kehna
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 076-FatwaQA
- Issued
- 13 ربیع الاول 1448ھ / 27 اگست 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بیوی کو بہن کہنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بیوی کو بہن بولا تو کیا حکم ہے؟ جواب اگر شوہر نے بیوی کو بہن کہا یا یوں کہا کہ تم میری بہن ہو تو اس صورت میں کوئی طلاق یا ظہار وغیرہ واقع نہیں ہوگا بلکہ وہ بدستور میاں بیوی ہی رہیں گے اور کوئی کفارہ وغیرہ بھی واجب نہیں تاہم شوہر اپنی بیوی کو بہن کہنے کی وجہ سے گناہگار ہوگا جس سے توبہ کرنا اس پر لازم ہے کیونکہ بہن کو بہن کہنا یہ الفاظ طلاق میں سے بھی نہیں اور اپنی بیوی کو بہن کہنا ظہار بھی نہیں اگر چہ ظہار کی نیت بھی ہو کیونکہ ظہار کے لئے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.