Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رات کو جھاڑو لگانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 047-FatwaQA
- Issued
- 20 ربیع الاول 1448ھ / 03 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم رات کو جھاڑو دینا کیسا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رات کو جھاڑو دینا کیسا ہے ؟ جواب رات کو جھاڑون کالنا (لگانا) ایک جائز کام ہے ، اس کو کسی نے ناجائز نہیں کہا کہ رات میں جھاڑو دینا گناہ قرار پائے ۔ ہاں بزرگانِ دین رحمةُ اللہ علیہم نے رات میں جھاڑو نکالنے کو تنگدستی اور غربت آنے کا سبب لکھا ہے ، ممکن ہے یہ ان کا مشاہدہ ہو یا ان تک یہ بات پہنچی ہو اور ہمارے بزرگان دین کی پیروی ہی میں ہماری عافیت ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.