Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حاملہ عورت کے روزے کا حکم؟

Fatwa no.
06
Issued
07 رمضان المبارک 1442ھ / 20 اپریل 2021 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ حاملہ عورت پر روزہ رکھنا ضروری نہیں، اسے روزہ معاف ہے، کیا یہی حکم شرع ہے؟ اس

Answer (beginning)

شخص کا مطلق اس طرح کہنا درست نہیں، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ حاملہ کے لیے اس وقت روزہ چھوڑنا، جائز ہے جب اپنی یا بچے کی جان کے ضیاع کا صحیح اندیشہ ہو ، اس صورت میں بھی اس کے لیے فقط اتنا جائز ہو گا کہ فی الوقت روزہ نہ رکھے ، بعد میں اس کی قضا کرنا ہو گی، البتہ اس پر کفارہ نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ فدیہ دے گی، فقط روزے کی قضا کرے گی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهماأوولدهماأفطرتاوقضتا،ولا كفارة عليهما كذا في الخلاصة ترجمہ : حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی یا بچے کی جان کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہیں اور اس کی قضا کریں گی ، ان دونوں پر اس کا کفارہ نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.