Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

الیکٹرک بائیک یا ویل چیئر پر بیٹھ کر طواف کرنے کا شرعی حکم نيز دم يا صدقہ کا حکم

Question

الیکٹرک بائیک یا ویل چیئر پر بیٹھ کر طواف کرنے کا شرعی حکم نیز دم یا صدقہ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فی زمانہ مسجد الحرام میں طواف اور سعی کے لیے کسی فرد کی مدد سے چلنے والی سادہ ویل چیئر ز بھی ہوتی ہیں اور الیکٹرک ویل چیئرز (ElectricWheelChairs)، الیکٹرک کاریں (Electriccars)، الیکٹرک اسکوٹرز (ElectricScooters) موجود ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عذر و مجبوری کے بغیر صرف سہولت و آسانی کے لیے یا تھکاوٹ سے بچنے کے لیے حج یا عمرے کا طواف ، یونہی نفل طواف پیدل چل کر نہ کرے ، بلکہ ان گاڑیوں وغیرہ پر بیٹھ کر کرے ، تو اس کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟ اور اس پر کوئی دم یا صدقہ لازم آئے گا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں کسی صحیح عذر کے بغیر صرف سہولت و آسانی کے لیے یا تھکاوٹ سے بچنے کے لیے حج یا عمرے کا طواف ، یونہی نظل طواف سادہ والیکٹرک ویل چیئر (ElectricWheel Chair)، الیکٹرک کار (ElectricCar) یا الیکٹرک اسکوٹر (ElectricScooter) وغیرہ پر کرنا، جائز نہیں ہے ، کیونکہ جسے کوئی عذر نہ ہو، اس کے لیے طواف اپنے پاؤں سے پیدل چل کر کرنا واجب ہے ۔ عذر سے مراد ایسی کمزوری یا بڑھاپا یا درد یا بیماری ہونا ہے کہ جس کی وجہ سے چلنے کی طاقت نہ رہے اور جب کوئی ایسی مجبوری نہ ہو، تو چاہے حج یا عمرے کا طواف ہو یا نفل طواف ہو، بہر صورت اسے پیدل ادا کرنا ہی واجب ہو تا ہے ، لیکن اگر کوئی شخص صحیح عذر و مجبوری…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.