Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا ایسا ممکن ہے کہ کاروبار میں برابرکےشریک ہوں اگر چہ ایک پاٹنر کے پاس سرمایہ نہ ہو؟

Fatwa no.
0081:Fmd

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میں عبد الحبیب اپنے ایک دوست کے ساتھ شرکت کرنا چاہتا ہوں میرے پاس پیسے ہیں، جبکہ میرے دوست کے پاس پیسے نہیں، میں اسے کاروبار کیلئے دینا چاہتاہوں اور چاہتا ہوں کہ نفع و نقصان میں وہ اور میں دونوں برابر کے شریک ہوں۔ جبکہ میں نے سنا ہے کہ نقصان مال والے کا ہوتا ہے کام کرنے والے کا نہیں ہوتا۔ تو ایسی کوئی صورت ممکن ہے کہ نفع کی طرح نقصان بھی دونوں کے ذمہ آئے، کیونکہ کاروبار میں نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے؟

Answer (beginning)

سائل : عبد الحبیب (5-G، نیو کراچی) سوال میں مطلوب طریقہ کار فقہی و شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یوں ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے دوست کو بالفرض کاروبار کے لئے 3,00,000 روپے دینا چاہتے ہیں تو آپ اس میں سے آدھا مال یعنی 150000 ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے دوست کو بطور قرض ادا کریں اور بقیہ ڈیڑھ لاکھ روپے بطور شرکت ان کو دے دیں۔ اس طرح دونوں کی رقمیں برابر ہو جائیں گی یعنی ڈیڑھ لاکھ آپ کے اور ڈیڑھ لاکھ دوست کے ہوں گے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.