Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر نفلی طواف کے چکر چھوٹ جائیں تو شرعی حکم؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ذوالقعدة الحرام 1440
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ وغیرہ سے فارغ ہو کر بغیر احرام باندھے میں نے اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے چار طواف کیے لیکن ہر مرتبہ ہر طواف کے صرف چار ، چار پھیرے کیے ، وقت کی کمی کی وجہ سے تین ، تین پھیرے چھوڑ دیئے اور اب پاکستان واپس آچکا ہوں۔ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ کوئی دم یا صدقہ وغیرہ تو لازم نہیں؟
Answer (beginning)
نفلی طواف جب شروع کر دیا جائے تو مثل نماز اس کا پورا کر نا واجب ہو جاتا ہے ، اس کو ادھورا چھوڑ دینا ناجائز وگناہ ہے۔لہذاہر طواف میں تین، تین پھیرے چھوڑنے کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے ، اس کی تو بہ آپ پر واجب ہے۔ نیز طواف قدوم کی طرح نفلی طواف اگر شروع کر کے اس کے اکثر یعنی چار یا اس سے زائد پھیرے ترک کر دیئے جائیں تو دم لازم ہوتا ہے اور اگر اقل یعنی چار سے کم ایک، دو یا تین پھیرے ترک کر دیئے جائیں تو ہر پھیرے کے عوض ایک صدقہ لازم ہو گا اور دونوں صورتوں میں رہ جانے والے پھیرے اگر مکمل کر لئے تو پہلی صورت میں دم اور دوسری صورت میں لازم ہونے والے صدقے ساقط ہو جائیں گے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.