Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے کا فدیہ کون کون دے سکتا ہے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ رمضان المبارک 1440ھ

Question

روزوں کی قضا کے بجائے فدیه کون دے سکتا ہے؟ دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد صاحب جن کی عمر تقریباً 65 سال ہے اور وہ دل کے مریض بھی ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ وہ روزہ رکھنے سے لاچار ہیں ان کے لئے شریعت اسلامیہ میں کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اس طرح کے افراد کے لئے شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ اندیشہ ہو کہ مرض بڑھ جائے گا یادیر سے اچھا ہو گا تو اجازت ہے کہ اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں اس کی قضا کرلے اور صرف اپنے خیال کا اعتبار نہ کرے بلکہ غالب گمان ہو نا چاہئے اور غالب گمان اس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی ظاہری نشانی پائی جائے یا اس کا ذاتی تجربہ ہو یا کسی ماہر طبیب غیر فاسق نے بتایا ہو غیر فاسق طبیب میسر نہ ہو تو دینی ذہن رکھنے والے ڈاکٹر سے مراجعت کرے یا کوشش کرے کہ ایک سے زائد ڈاکٹر سے رائے لے اور اگر بغیر غالب گمان کے روزہ نہ رکھا تو قضا کے ساتھ ساتھ تو بہ بھی کرنا ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.