Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرنسی کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بس اسٹاپ پر جو لوگ کھلے پیسے دیتے ہیں وہ 100 روپے کے نوٹ لے کر 90 روپے کے سکے دیتے ہیں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے ؟ کہیں یہ سود تو نہیں ہے؟

Answer (beginning)

100 روپے کے نوٹ لے کر 90 روپے کے سکے دیئے جائیں چاہے یہ لین دین دونوں طرف سے نقد ہو یا ایک طرف سے ادھار اور ایک طرف سے نقد ہو یہ دونوں صورتیں جائز ہیں اس میں سود نہیں ہے، کیونکہ جب 100 روپے کے نوٹ کے بدلے میں 90 روپے کے سکے دیئے جائیں گے تو اس میں نہ تو جنس ایک ہے اور نہ ہی قدر پائی جارہی ہے تو کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہوئے۔ جیسا کہ در مختار میں ہے : وَإِنْ عَدِ مَا حَلَّا لِعَدَمِ الْحِلَّةِ فَبَاقِي عَلى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ ترجمہ : اگر قدر و جنس دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں، علت کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، تو بیع اپنی اصل اباحت پر باقی رہے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.