Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرایہ پر لی ہوئی چیز آگے کرایہ پردینے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاءَأَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں فریٹ فارورڈ نگ (Freight Forwarding) کا کام کرتا ہوں جس میں بحری جہاز کے کنٹینرز زشپنگ کمپنی سے کنٹینز کرائے پر لے کر آگے اسے پارٹی کو کرائے پر دیتے ہیں۔ کمپنی سے ہم کسی مال کی ایکسپورٹ کے لئے مثلاً 10,000 روپے کرائے پر لیتے ہیں، اور پارٹی کو یہی کنٹینر 12,000 روپے میں دیتے ہیں۔ مذکورہ کرائے پر شپنگ کمپنی چاہے دو دن میں بھیجے یا پانچ دن میں ، یہ اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہمارے پاس کنٹینر کو پہنچادے، نیز مال چھوڑنے کے بعد شپنگ کمپنی کا کام ہوتا ہے کہ اس کنٹینر کو کہاں بھیجنا ہے، پارٹی اور ہمارا اب اس کنٹینر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پارٹی کو جو ہم زیادہ کرائے پر دیتے ہیں، اس میں ہم کنٹینز کی سیل (Seal) کے آخراجات بھی شامل کرتے ہیں کیونکہ ہم کنٹینر کی سیل کے آخراجات شپنگ کمپنی کو الگ دیتے ہیں لیکن پارٹی سے ہم اس سیل کرانے کے الگ پیسے نہیں لیتے، تو کیا اس صورت میں پارٹی کو جب ہم کنٹینز کرائے پر دیتے ہیں تو کنٹیز کا کرایہ اور سیل کے اخراجات ملا کر مثلاً12,000 روپے میں دے سکتے ہیں، جبکہ ہم نے شپنگ کمپنی سے وہی کنٹینر 10,000 روپے کا کرائے پر لیا ہوتا ہے اور تقریباً 500 روپے میں سیل کے اخراجات میں دیئے ہوتے ہیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ پارٹی کو کنٹیز کا کرایہ اور اسے سیل کرنے کے اخراجات کے ساتھ ملا کر کنٹینر کو آگے زیادہ کرائے پر دے سکتے ہیں۔ کیونکہ کرائے پر لی ہوئی چیز آگے کرائے پر دے سکتے ہیں، جبکہ اتنے ہی کرائے پر دی جائے جتنے پر لی تھی ، یا کم کرائے پر دی جائے اور اگر زیادہ کرائے پر دینا چاہیں تو اس وقت دے سکتے ہیں جب درج ذیل تین صورتیں پائی جائیں: ایک یہ کہ کنٹینر میں کچھ کام کر دیں۔ دوسری یہ کہ آپ نے جس جنس کے کرائے پر کنٹینز لیا اس کے خلاف کسی اور جنس کے کرائے پر آگے دیں۔ اور تیسری یہ کہ کنٹینر کے ساتھ کوئی اور چیز بھی کرائے پر دیدیں اور دونوں کا کرایہ ایک ہی مقرر کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.