Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس حاصل کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جنوری 2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ موبائل کمپنیاں مختلف قسم کے پیکجز دیتی رہتی ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں ، ان ہی میں سے ایک پیکیج لون(Loan) کا بھی ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس بیلنس ختم ہو گیا ہے تو کمپنی یہ آفر کرتی ہے کہ آپ لون لے لیں پھر جب آپ موبائل میں بیلنس ڈلوائیں گے تو ہم نے وہ اتے اوپر مزید کرنا زیادہ ع جائز ہے؟ جتنے دیئے ہیں وہ اور اتنے او پر مزید کاٹ لیں گے اور یہ بات کسٹمر کو معلوم ہوتی ہے اور کسٹمر راضی ہو کر لون لیتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس میں زیادہ پیسے کاٹنا شرعاً جائز ہے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں یہ سود ہے کیا یہ بات درست ہے ؟

Answer (beginning)

مذکورہ معاملہ ہر گز سود نہیں بلکہ ایک جائز طریقہ ہے کیونکہ یہ اجارہ ہے قرض نہیں کہ یہاں کمپنی سے پیسے وصول نہیں کئے جارہے بلکہ اس کی سروس استعمال کی جارہی ہے۔ عمومی طور پر کمپنی پہلے پیسے لے لیتی ہے اور پھر سروس فراہم کرتی ہے جبکہ پوچھی گئی صورت میں کمپنی پہلے سروس فراہم کر رہی ہے اور پھر پیسے وصول کر رہی ہے اور یہ دونوں طریقے جائز ہیں یعنی منفعت فراہم کرنے سے پہلے عوض لے لینا بھی درست ہے اور منفعت فراہم کرنے کے بعد عوض لینا یہ بھی درست ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.