Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محفلِ میلاد کا چندہ بچ جائے تو کیا کریں؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر 2017

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ہر سال محفل میلاد منعقد ہوتی ہے اس سال بھی منعقد ہوئی اس کے لئے چندہ کیا گیا جس میں سے کچھ رقم بچ گئی اب پوچھنا ہے کہ جو رقم بچ گئی ہے اس سے میلاد کے لئے برتن اور مسجد کی ضرورت کے لئے چیزیں مثلا لاؤڈاسپیکر ، ساؤنڈ، دریاں وغیرہ خرید ناجائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

جو چندہ میلاد شریف کی محفل کے لئے لیا گیا ہے وہ صرف میلاد شریف کی محفل میں ہی استعمال کرنے کی اجازت ہے اس کے علاوہ کسی اور کام میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں بلکہ ایسا کر نانا جائز و گناہ ہے ، جو ر تم بچ گئی ہے وہ چندہ دینے والوں کو ان کے حصوں کے مطابق ہر ایک کو واپس کر دیں یا ان سے اجازت لیں، تو وہ جس جائز کام میں خرچ کرنے کی اجازت دیں وہاں صرف کر دیں، اس صورت میں اگر برتنوں، لاؤڈ سپیکر یا دریوں کی اجازت دیتے ہیں تو یہ بھی خرید سکتے ہیں اور اگر چندو دینے والوں کا کوئی پتہ نہ چلے تو اسی طرح کی کسی دوسری محفل میلاد میں ان کو خرچ کریں، اگر یہ نہ ہو سکے تو اگلے سال میلاد شریف ہی کی اسی محفل میں خرچ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.