Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چار افراد کی ایک گائے میں قربانی کا حکم؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ اگر چار افراد مل کر برابر برابر رقم ڈال کر ایک بڑا جانور مثلاً گائے خرید کر بہ نیت قربانی ذبح کریں تو ان کی قربانی ہو جائے گی یا نہیں حالانکہ بڑے جانور میں تو سات حصے ہوتے ہیں ؟ نیزان میں گوشت کی تقسیم کس طرح ہو گی۔

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں ان چار افراد کی قربانی ہو جائے گی کہ گائے، اونٹ وغیرہ جانوروں میں کم از کم ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوناضروری ہے اور اس سے زیادہ ہو تو حرج نہیں، گوشت وزن کر کے برابر برابر تمام شرکا میں تقسیم کیا جائے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَلا وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.