Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بغیر دانت والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ ایسا بیل جس کی عمر تو یوری ہو چکی ہو لیکن ابھی تک اس کے دانت نہ نکلے ہوں، اس کی قربانی کرنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
ایسا بیل جس کی عمر اسلامی اعتبار سے دو سال مکمل ہو اور اس میں قربانی سے مانع (روکنے والا) کوئی بھی عیب نہ ہو تو اسکی قربانی بلا شبہ جائز ہے، اگر چہ ابھی تک اس کے سامنے والے دو بڑے دانت نہ نکلے ہوں (جن کی وجہ سے جانور کو عرف میں ”دوند ا یعنی دو دانت والا کہا جاتا ہے) کیونکہ شریعت کی طرف سے قربانی کے جانوروں کی مقریر کردہ عمر کا پورا ہونا ضروری ہے ، بڑے دانت نکلنا ضروری نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.