Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تقریر کی اجرت لینا

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمای دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ جو مقر ر پیسے طے کر کے آئے اور پیسے نہ ملنے پر نہ آئے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ ایسے مقرر کا وعظ و نصیحت سننا چاہئے کہ نہیں؟ ایسے مقرر کا وعظ سننا جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

فی زمانہ مقرر کا تقریر و بیان کی اجرت لینا جائز ہے اور جو مقرر طے کر کے اجرت لیتا ہے اس کا وعظ و بیان سننا جائز ہے بشر طیکہ صحیح العقیدہ سنی ہو۔ امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرطين فرماتے ہیں: ”اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ در مختار میں اسے یہود و نصاری کی ضلالتوں میں سے گنا مگر کم من احکام یختلف باختلاف الزمان، كما في العلمگيرية (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہو جاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.