Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
جب کوئی مانع شرعی (جیسا کہ جھوٹ اور دھوکادوغیرہ) نہ ہو تو ایک روپے کی چیز باہم رضامندی سے دس روپے میں بیچنا جائز ہے کیونکہ شریعت مطہرہ نے نفع کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان عليه رحمة اللطین سے سوال ہوا کہ چار پیسے کی چیز کا گنی یا تین گنی قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے ؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: ” ما قبیل اور یہ دونوں باتیں جائز ہیں جبکہ جھوٹ نہ بولے فریب نہ کرے مثلاً کہا خرچ وغیر ہ ملا کر مجھے سوا چار میں پڑی ہے اور پڑی تھی پونے چار کو یا خرید و غیر ہ ٹھیک بتائے مگر مال بدل دیا، یہ دھوکا ہے یہ صورتیں حرام ہیں ورنہ چیزوں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.