Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

داڑھ بھروانے کی صورت میں وُضو و غسل کا حکم

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص نے اگر اپنی داڑھ بھر وائی ہو تو کیا اس کا وضوو غسل ہو جائے گا؟ جبکہ داڑھ بھر وائی ہو تو اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔

Answer (beginning)

داڑھ بھر وا ناشر عی طور پر جائز ہے اور اگر کسی نے داڑھ بھروائی ہو تو اس کا وضو و غسل بلا کراہت ہو جائے گا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچانے کو وضو میں ترک سنت اور غسل میں ترک فرض قرار نہ دیا جائے گا کیونکہ ایسی حالت میں اس کے نیچے پانی بہانانا ممکن ہوتا ہے اور جس جگہ تک پانی پہنچانا متعدیر ہو یا مشقت و حرج کا باعث ہو وہاں تک پانی پہنچانے کا شریعت نے مکلف نہیں کیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.