Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اقامت میں کب کھڑے ہونا چاہئے؟
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اقامت میں کب کھڑا ہونا چاہیئے ؟ حَى عَلَى الفلاح پر کھڑے ہونے کو سنت کہہ سکتے ہیں؟ نیز کچھ لوگ کھڑے ہو کر ا قامت سنتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟ سائل: سعید احمد عطاری (گلستان جوہر ، کراچی)
Answer (beginning)
احناف کے نزدیک اس بارے میں حکم یہ ہے کہ امام و مقتدی جب مسجد میں موجود ہوں تو اس صورت میں امام و مقتدی سب حَى عَلَى الْفَلَام پر کھڑے ہوں اور حَى عَلَى الفلاح پر کھڑا ہونا سنت مستحبہ اور اسے صرف سنت ہی کہہ لیا جائے تو بھی کچھ حرج نہیں اور یوں بھی ٹھیک ہے کہ حی علی الصلوۃ پر کھڑا ہونا شروع کریں اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاء پر مکمل کھڑے ہو جائیں۔ چنانچہ حاشیہ شلبی علی التبیین میں ہے : ”قال فی الوجیز: والسنة ان يقوم الامام و القوم اذا قال المؤذن حى على الفلام الا و مثله فی المبتغی یعنی وجیز میں ہے : سنت یہ ہے کہ امام اور قوم اس وقت کھڑے ہوں جب موذن حَيَّ عَلَى الفَلَام کہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.