Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا مہر معاف کرنے کا شرعی حکم
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر / اکتوبر 2018
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر / اکتوبر 2018
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوا تھا اگر عورت اپنی رضامندی سے اُسے معاف کر دے تو کیا اس طرح حق مہر معاف ہو جاتا ہے ؟ اور پھر عورت بعد از طلاق اس کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
Answer (beginning)
اگر عورت بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی سے اپنا مہر معاف کر دے اور شوہر مہر کی معافی کو ر ڈ نہ کرے بلکہ قبول کر لے یابس خاموش ہی رہے تو مہر معاف ہو جاتا ہے اور اب بیوی اس مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی نہ طلاق سے پہلے اور نہ ہی طلاق کے بعد ۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَلا وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta Ahlesunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.