Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کمیشن ایجنٹ کا زائد قیمت پر چیز بیچنا
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر/ستمبر 2018
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کمیشن ایجنٹ کمپنی ریٹ سے زیادہ قیمت پر چیز بیچ کر اضافی رقم خود ر کھ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
شرعی قوانین کی رو سے بروکر ایک نمائندہ ہوتا ہے خود پارٹی نہیں ہو تا بلکہ دو پارٹیوں کو ملوار ہا ہوتا ہے۔ سودا اگر زیادہ پیسوں میں ہوتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ مال بیچنے والے کو اسی قیمت سے آگاہ کرے جس قیمت میں مال بکا ہے اور پوری قیمت بیچنے والے کے حوالے کرے اصل قیمت میں سے خود رکھنا اور مالکان کو آگاہ نہ کرنا یہ حرام فعل ہے نہ ہی یہ اضافی رقم اس کیلئے حلال ہو گی۔ یہ صرف اپنی مقررہ کمیشن کا حق دار ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.